نو لاکھ با غ
نولاکھ باغ
میلوشارم کے متوازی، پالار ندی کے شمالی کنارے پر ایک باغ واقع ہے جسے ’’نولاکھ باغ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’نولاکھ‘‘ کا مطلب ہے ’’نو لاکھ درختوں کا باغ‘‘، اور روایت ہے کہ اس میں نو لاکھ درخت لگائے گئے تھے ۔
سالوں سے میلوشارم اور آس پاس کے علاقوں کے لوگ اس باغ کا رخ کرتے رہے ہیں۔ ہر ’’وشارمی‘‘ نے اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار اس باغ کی سیر ضرور کی ہوگی۔ اسکول کی چھٹیوں میں ہم دوستوں کے ساتھ تقریباً دو کلومیٹر پالار ندی کو عبور کر کے اس دلکش باغ تک پیدل پہنچا کرتے تھے۔ مجھے آج بھی دوستوں کے ساتھ امرود، کاجو اور دیگر پھل کھانے کی خوشی یاد ہے. ۔
یہ باغ حکومتِ تمل ناڈو کے محکمہ باغبانی کے زیرِ انتظام ہے۔ 2016 میں پالار پر میلوشارم اور نولاکھ کے درمیان ایک پل تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد لوگ صبح و شام چہل قدمی کے لیے یہاں.
کثرت سے آتے ھیں۔ یۂ پل میلوشارم کو سپکاٹ اور رانی پیٹ سے بھی جوڑتاہے۔ ۔
جب میں نے اس باغ کی تاریخ جاننے کی کوشش کی تو بہت سی معلومات حاصل ہوئیں جو میں اس مضمون میں پیش کرنا چاہتا۔ ہوں۔ ۔
نولاکھ باغ اٹھارہویں صدی کا ایک تاریخی باغ ہے جسے نوابِ آرکاٹ نے تعمیر کروایا تھا۔ مقامی روایت کے مطابق جب مغلوں نے پہلی مرتبہ آرکاٹ پر قبضہ کیا تو نواب کے محل کی تعمیر کے لیے درخت کاٹ دیے گئے۔ ان درختوں سے محروم پرندے محل کی طرف آ کر نواب کو اپنی فریاد بھری آوازوں سے بے چین کرنے لگے، یہاں تک کہ نواب نے ان کے غم کو دُور کرنے کے لیے دوبارہ درخت لگانے کا حکم دیا۔ یہ روایت ’’دی ہسٹری آف لیدر انڈسٹریز اِن ویلور ڈسٹرکٹ‘‘ میں درج ہے جو ’’امبر ٹینرز ایسوسی ایشن‘‘ نے شائع کی تھی. ۔
میرے ایک اُستاد نے بھی اس واقعہ سے ملتی جلتی ایک روایت سنائی، جس میں معمولی فرق تھا۔ اُن کے مطابق نواب نے ایک گرمیوں کا محل تعمیر کروانے کا حکم دیا۔ درخت کاٹ دیے گئے اور جب محل مکمل ہونے والا تھا، نواب بیمار پڑ گئے۔ شاہی طبیبوں نے بہترین علاج کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار ایک صوفی بزرگ نے نواب سے کہا: ’’تم نے پرندوں کی زندگی تباہ کی ہے، اسی لیے خدا نے تمہارا سکون چھین لیا۔‘‘ نواب نے فوراً توبہ کی۔ بزرگ نے فرمایا کہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے ایک نیا باغ لگاؤ۔ نواب نے اسی جگہ کو منتخب کیا اور پودے لگوانے کا آغاز کیا۔ جیسے جیسے باغات بڑھتی گئی، نواب کی صحت بھی بہتر ہوتی گئی. ۔
یہ سب پڑھنے کے بعد میں اس بات کو جاننے کے لیے بے چین ہوا کہ آخر وہ کونسے نواب تھا جنھوں نے اس حسین اور وسیع باغ کی بنیاد رکھی، اور یہ باغ کب قائم ہوا۔ اپنے محدود علم کی بنیاد پر میں نے اندازہ لگایا کہ یہ نواب سعادت اللہ خاں ہوں گے، کیونکہ ان کے دورِ حکومت میں آرکاٹ میں امن قائم تھا اور یہ علاقہ ثقافتی و سیاسی ترقی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد سیاسی انتشار اور اقتدار کی جنگ نے 1751 میں برطانوی فوجوں نے آرکاٹ کو فتح کیا ۔
سال 2022 میں، میں نے دی ہندو اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون ’’کرونوگرام — دی آرٹ آف رائٹنگ ٹائم‘‘ (25 اگست 2016) پڑھا، جسے مشہور مورخ جناب ایس۔ کومبئی انور صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ۔
اُنہوں نے لکھا: ’’جب نواب سعادت اللہ خاں نے اپنی دارالحکومت آرکاٹ میں ایک خوبصورت باغ تعمیر کیا اور اس کا موزوں نام تلاش کر رہے تھے تو ان کے مورخ جسونت رائے نے اسے ’ہمایوں باغ‘ یعنی ’مبارک باغ‘ کا نام پیش کیا۔ نواب نہایت خوش ہوئے کیونکہ یہ صرف نام نہیں بلکہ ایک کرونوگرام (تاریخ نما عبارت) بھی تھی، جو عربی تقویم کے لحاظ سے 1113 ہجری (1701 عیسوی) میں باغ کے قیام کی نشاندہی کرتی ہے۔ ۔‘‘
مزید لکھا گیا ہے کہ: ’’1702 میں نواب کی بیگم صاحبہ کا انتقال ہوا، اور ایک سال بعد نواب نے ایک دوسرا باغ بھی اسی پیمانے پر تعمیر کروایا جسے جسونت رائے نے ’نوجہان باغ‘ نام دیا۔ یہ بھی کرونوگرام کی صورت میں 1115 ہجری (1703 عیسوی) کی تاریخ ظاہر کرتا ہے۔ ۔‘‘
اس معلومات سے متاثر ہو کر میں نے ’’نولاکھ باغ‘‘ کے نام میں پوشیدہ مفہوم جاننے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے میں نے وانیامبادی کے جناب کے۔ احسان احمد صاحب سے مدد لی، جو ایک ماہرِ کمپیوٹر سائنس ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی و اردو کرونوگرام کے ماہر بھی ہیں۔ انہوں نے نولاکھ باغ کے ساتھ ساتھ ہمایوں باغ اور نوجہان باغ کے کرونوگرام بھی حل کیے۔
۔
ان کے مطابق نولاکھ باغ کے کرونوگرام سے سنہ 1115 ہجری یعنی 1703 عیسوی ظاہر ہوتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ باغ بھی نواب سعادت اللہ خاں ہی کے دورِ حکومت میں قائم کیاگیا تھا۔ ۔
موجودہ حالتِ نولاکھ باغ
جیسا کہ آغاز میں ذکر ہوا، یہ باغ محکمۂ باغبانی، حکومتِ تمل ناڈو کے زیرِ انتظام ہے اور جدید زرعی طریقوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں پودے سستے داموں فروخت کیے جاتے ہیں تاکہ شجرکاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اسکول کے طلبہ اسے نصابی سرگرمیوں کے حصے کے طور پر دیکھنے آتے ہیں۔ ۔
فی الحال باغ تین حصوں میں منقسم ہے، ہر ایک کی الگ زرعی اہمیت ہے۔ ۔
-
اوپری باغ
یہاں زیادہ تر ناریل کی کاشت ہوتی ہے۔ اس حصے میں ناریل کی پچاس مختلف اقسام موجود ہیں، جو اسے خطے کی منفرد ناریل نرسری بناتی ہیں۔ -
پھلوں کا باغ
یہاں گرم اور نیم گرم علاقوں کے درجنوں اقسام کے پھل پائے جاتے ہیں، جن میں آم، کاجو، امرود (خصوصاً چٹّی دار اور گلابی امرود)، چیکو، کٹھل، انار، انجیر، آملہ، لیموں، ستوگُڈی (میٹھا لیموں) اور کھجور شامل ہیں۔ ۔ -
زیریں باغ
یہ سب سے وسیع حصہ ہے، جو زیادہ تر تیل دار بیجوں کی کاشت کے لیے مخصوص ہے۔
اختتامیہ
نولاکھ باغ نہ صرف مقامی معیشت کے لیے ایک اہم زرعی مرکز ہے بلکہ یہ ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے والا ایک قیمتی سبز اثاثہ بھی ہے۔ تقریباً 1697 ایکڑ پر پھیلا یہ باغ تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کرناٹک کی منڈیوں کو تازہ پھل، میوہ جات اور تیل دار بیج فراہم کرتا ہے۔
الحمد للہ، میں جناب کے۔ احسان احمد صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کرونوگرام کو حل کیا، اور جناب کومبئی انور صاحب کا بھی شکریہ جن کے قیمتی مضمون نے اس تحقیق میں رہنمائی فراہم کی۔ اسی طرح میں نولاکھ باغ کے افسرانِ باغبانی کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے موجودہ باغبانی کی تفصیلات فراہم کیں۔
S. MOHAMMED SADATHULLAH
MELVISHARAM
Comments
Post a Comment