حضرت مولانامحمد خورشیداللہ صاحبؒ – ایک محدثِ کبیر اور مدرسۂ خیرِ جاری، میل و شارم کے صدر المدرسین
حضرت مولانامحمد خورشیداللہ صاحبؒ – ایک محدثِ کبیر اور مدرسۂ خیرِ جاری، میل و شارم کے صدر المدرسین
ہمارے بزرگ اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ حقیقی علم صرف کتابوں سے نہیں آتا بلکہ علما ءکی صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔ کچھ علوم صحبت سے منتقل ہوتے ہیں، جنہیں صرف علماء کی صحبت سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
جناب مرحوم الحاج آؤر عبدالعزیز صاحب(1936-2021) ایک ایسے ہی بزرگ ہستی تھے، جو میل و شارم کی تاریخ سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے علم کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ تقریباً دس سال قبل، انہوں نے میل و شارم کی بڑی مسجد کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔
انہوں نے مدرسہ خیرِ جاری (جسے 1870 ءکی دہائی میں آلنجی محمد عثمان صاحب نے قائم کیا تھا) کے ایک استاد حضرت مولانا خورشیداللہ صاحب کے بارے میں بتایا۔ مولانا صاحب ہر نماز کے بعد بڑی مسجد کے ساتھ واقع قبرستان جایا کرتے تھے اور وہاں مدفون مسلمانوں کے لیے ایصالِ ثواب کی دعا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ مدراس(چنئی) سے تعلق رکھتے تھے، لیکن میل وشارم سے انہیں خاص انسیت تھی۔
مولانا نے وصیت میں لکھا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد اسی قبرستان
میں انکی تدفین کی جائے، اور وہ ہمیشہ اپنی وصیت کی ایک نقل اپنے پاس رکھتے تھے۔ جب ان سے
اس کی وجہ پوچھی گئی، تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے میل و شارم میں ایک خاص بات دیکھی:
ہر نماز کے بعد بہت سے لوگ قبرستان جا کر مرحومین کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جو اندر نہیں
جا سکتے، وہ بھی مسجد کی کھڑکی سے قبرستان کی طرف رخ کر کے دعا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ خواتین
بھی باقاعدگی سے ایصالِ ثواب کرتی ہیں۔ مولانا فرماتے تھے کہ یہ روایت بڑے شہروں میں
کم ہی نظر آتی ہے، جہاں قبرستان مساجد سے دور ہوتے ہیں۔
مجھے مولانا خورشیداللہ صاحب کے بارے میں صرف اتنی ہی معلومات
تھیں۔ حال ہی میں ہمارے علاقے کے معروف مورخ اور محقق ڈاکٹر راہی فدائی صاحب نے مجھے
مولانا خورشیداللہ صاحب کے متعلق اپنی کتاب تذکرہ محدثین جنوب کا حوالہ دیا، جو جنوبی
ہند کے محدثین کا ایک قیمتی ذخیرہ ہے۔ اس کتاب میں حضرت مولانا خورشیداللہ صاحب کا
مختصر تذکرہ درج ہے:
حضرت مولانا محمد خورشیداللہ صاحب (رحمہ اللہ) مدراسی،
صدر المدرسین مدرسۂ خیرِ جاری، میل و شارم, ایک عظیم عالمِ دین اور علومِ اسلامیہ کے ماہر تھے۔
آپ نے حضرت محمد گیسو دراز قادریؒ سے بیعت لی اور حدیث و دیگر علومِ دینیہ ان سے حاصل
کیے۔
جب مولانا خورشیداللہ صاحب میل و شارم میں تدریس فرما رہے
تھے، اس وقت دیگر علما بھی آپ سے حدیث کی اجازت و اسناد لینے کے لیے حاضر ہوا کرتے
تھے۔ انہی میں ایک مشہور شخصیت حضرت مولانا عبد الہادیؒ تھے، جو مدرسہ معدن العلوم،
وانیامباڑی کے ابتدائی فارغین میں سے تھے اور
خود بھی حدیث کے ماہر تھے۔ انہوں نے میل و شارم میں حضرت خورشیداللہ صاحب سے ملاقات
کی اور اجازتِ حدیث حاصل کی۔
ڈاکٹر راہی فدائی صاحب کی اس تحریر کو پڑھنے کے بعد ہی مجھے
حضرت مولانا خورشیداللہ صاحبؒ کی علمی اور روحانی عظمت کا صحیح اندازہ ہوا، جو مدرسہ
خیرِ جاری کے ایک روشن مینار تھے۔
یہ ممکن ہے کہ آؤر عبدالعزیز صاحب کو یہ معلومات ان کے والد
جناب ضیاء الدین محمد صاحب سے ملی ہوں، جن کے والد مولانا آؤر عبدالعزیز صاحب باقویؒ
حضرت مولانا عبد الوہاب صاحبؒ (بانی مدرسہ
باقیات الصالحات، ویلور) کے قریبی شاگردوں میں سے تھے۔ مولانا آؤر عبدالعزیز صاحب باقویؒ
مدرسہ خیرِ جاری کے بانی اراکین میں شمار کیے جاتے ہیں۔
میں نے حضرت مولانا خورشید اللہ صاحب کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی تفصیل نہیں مل سکی۔ ان شاء اللہ، مواد ملنے تک تلاش جاری رہے گی۔
میں
یہاں کے قبرستان سے متعلق آؤر عبدالعزیز صاحب کے بیان کردہ چند واقعات درج کرنا چاہتا
ہوں:
1۔حضرت
مولانا حسین احمد مدنیؒ کا دورہ
حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ 1957 میں میل و شارم تشریف
لائے اور چند دن قیام فرمایا۔ انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول اور مدرسہ نسواں کا دورہ
کیا۔ بڑی مسجد میں نماز کے بعد انہوں نے قبرستان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ قبرستان
کے دروازے پر کچھ دیر خاموش کھڑے رہے اور دعا فرمائی۔ مولانا مدنیؒ جو کشف القبور میں
معروف تھے، فرمایا کہ اس جگہ کئی نیک لوگ اوراولیا اللہ مدفون ہیں۔
2۔حضرت
مولانا قاری طیب صاحبؒ کی تشریف آوری
حضرت قاری طیب صاحبؒ تقریباً تین دہائیوں (1956–1983) تک
میل و شارم تشریف لاتے رہے۔ وہ اکثر چنمیرہ فقیر محمد صاحب کی رہائش "طیب منزل"
میں قیام فرماتے۔ آؤر عبدالعزیز صاحب کے مطابق، آخری بیماری کے دوران قاری صاحب میل
و شارم ہی میں تھے، مگر بعد میں انہیں دہلی لے جایا گیا۔ ہوائی اڈے پر جب وہ نیم بے
ہوشی کی حالت میں تھے، تو انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ انہیں میل
و شارم ہی میں رہنے دینا چاہیے تھا۔
حضرت
مفتی محمود الحسن صاحبؒ نے بھی 1994 میں میل و شارم کے دورے کے دوران، حضرت مدنیؒ جیسا
ہی تبصرہ فرمایا تھا۔
اہل سنت والجماعت کے عقیدہ کے مطابق ایصالِ ثواب کرنا، چاہے
صدقہ کی صورت میں ہو، کھانے کھلانے کی صورت میں ہو، قرآن پاک کی تلاوت یا دعائے مغفرت
کی صورت میں ہو، ایک پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سنتوں پر چلنے کی توفیق
دے، آمین۔
میل و شارم نے کئی جید علماء پیدا کیے ہیں جن کی علمی خدمات
نے اس بستی کی فکری و دینی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان کا تذکرہ محفوظ کیا
جانا ضروری ہے۔
یہ چند تاریخی جھلکیاں میں نے اللہ کے فضل سے قلم بند کی ہیں۔ میں ڈاکٹر راہی فدائی صاحب دامت برکاتہم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مولانا خورشیداللہ صاحبؒ کے متعلق قیمتی معلومات فراہم کیں۔ میں حضرت مفتی حا فظ محمد ابو بکر صا حب دامت بر کا تھم کا شکر گزار ھوں کۂ انھوں نے مضمون کی نظرِ ٹانی کی اور دعاؤں سے نوازا۔ اللہ تعالی جناب مرحوم آؤر عبدالعزیز صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ ایسے بزرگوں کے درمیان
ہوں جو دل سے تاریخی واقعات کو محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں بانٹتے ہیں۔ الحمدللہ۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہمارے بزرگ ایک ایک کر کے ہم
سے جدا ہو رہے ہیں۔ ابھی کل ہی ملک محمد شہاب الدین صاحب کا انتقال ہوا۔ وہ ایک معروف
سیاسی شخصیت اور انڈین یونین مسلم لیگ کے سابق رکن تھے۔ وہ مجھے مسجد میں دیکھتے تو
بلا کر میل و شارم کے سیاسی رہنماؤں کی تاریخ سنایا کرتے تھے۔ اللہ ان کو جنت نصیب
کرے، آمین۔
چا کو ائ محمد سعادت اللہ
میل و شا ر م
۲۳۔۹۔ ۲۰۲۵
چ

Comments
Post a Comment